18 اکتوبر 2010 - 20:30

قائد ملت جعفریہ پاکستان شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی بائیسویں برسی کے موقع پر "اسلامی نظام عدل کے قیام میں قیادت کا کردار" کے تحت ایک سیمینار قم میں امام خمینی ایجوکیشنل کمپلیکس کے "قدس ہال" میں منعقد ہوا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایحنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قائد شہید علامہ سید عارف حسین حسینی کی بائیسویں برسی کے موقع پر ان کی یاد میں قم کے پاکستانی طلبہ و فضلاء کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں "اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام عدل کے قیام میں قیادت کے کردار" کا جائزہ لیا گیا۔ اس سیمینار کے آغاز پر پاکستان میں ولی فقیہ کے نمائندے جناب علامہ سیدساجد علی نقوی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔علامہ ساجد علی نقوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے: اسلامی نظام میں قیادت کا کردار بنیادی اور اصولی ہے اور آج ہمیں معاشرے کے مسائل کو حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرلینے چاہئیں۔ انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے: شیعیان پاکستان کے شہید قائد پاکستان کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی امور میں نہایت اثرگزار تھے اور ان کی مجاہدت نہ صرف پاکستانی اہل تشیع کے لئے تھی بلکہ وہ تمام اسلامی مذاہب اور دنیا کے تمام مستضعفین کے حقوق کی بات کیا کرتے تھے؛ ان کی قیادت کا عرصہ بہت مختصر تھا مگر ان کی منفرد خصوصیات ان کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا موجب بنی ہوئی تھیں چنانچہ اگر آج ہم دنیا میں کوئی اہل کردار ادا کرنا چاہیں تو ہمیں شہید سید عارف حسین الحسینی کا کردار اپنے لئے نمونہ عمل قرار دینا ہوگا۔  اس کے بعد سیمینار سے حوزہ علمیہ جامعةالمنتظر کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین حافظ سید ریاض حسین نجفی نے خطاب کیا اور اسلامی نظام عدل کے قیام میں قیادت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کی جانب سے تشکیل حکومت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت کا سبب عدل کا قیام تھا۔ انھوں نے کہا: عدل و انصاف کے قیام کے لئے جدوجہد کرتے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کردار کو نمونۂ عمل قرار دینا چاہئے لیکن اس کے لئے حصول علم کی ضرورت ہے اور ہمیں عدل تک پہنچنے کے لئے علم کے ہتھیار سے لیس ہونا چاہئے۔ سیمینار کے تیسرے مقرر پروفیسر نثار احمد تھے جنہوں نے ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کی مقتدرانہ حاکمیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی حاکمیت ان اقوام و ممالک کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے جو حقیقی عدل و انصاف تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ نظام حکومت کو بہت سے مسائل درپیش ہیں اور ہمیں یہ مسائل حل کرنے کے لئے اسلامی جمہہوریہ ایران کی مانند اسلامی نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے کیونکہ اس نظام کے قوانین قرآن مجید سے مأخوذ ہیں اور اس کی سربراہی ایک آگاہ و عادل قیادت کے ہاتھ میں ہے اور جب یہ دو چیزیں "عدل اور آگہی" ایک قائد میں جمع ہوجائیں تو وہ قائد ہر معاشرے کو عدل کی جانب لے جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین حسینی رحمةاللہ علیہ 5 اگست 1988 کو صبح کی نماز کے بعد حکومت وقت کے بعض کارندوں سے وابستہ دہشت گرد کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرگئے۔........../110